ممبئی یکم اگست(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )مہاراشٹر کے پربھنی شہر سے ممنوع تنظیم داعش (آئی ایس آئی ایس) کے رکن ہونے کے الزامات کے تحت گرفتار ۲۲؍ سالا مسلم نوجوان محمد شاہد خان ولد محمد قادر خان کو اورنگ آباد کی نچلی عدالت نے ۱۲؍ اگست تک پولس تحویل میں بھیجے جانے کے احکامات جاری کیئے ، یہ اطلاع آج یہاں ملزم کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دیتے ہوئے مزید بتایا کہ گذشتہ دنوں ملزم کی گرفتاری کے بعد ملزم کے اہل خانہ نے جمعیۃ علماء سے رابطہ قائم کیا تھا اور کہا تھا کہ ان کا لڑکا بے قصور ہے اور اس کا اس معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے بلکہ ۱۴؍ جولائی کو پربھنی سے گرفتار کیئے گئے دیگر ملزم ناصر چاؤس کی نشاندہی پر مہاراشٹر انسداد دہشت گرد دستہ (اے ٹی ایس ) نے گرفتار کیا تھا ۔اورنگ آباد کی نچلی عدالت کے جج رتیش مہاتوالی کے روبرو دونوں ملزمین کو پیش کیا گیا جس کے دوران سرکاری وکیل نے مزید تفتیش کے نام پر ملزمین کی ۱۲؍ اگست تک پولس تحویل حاصل کرلی حالانکہ دفاعی وکلاء نے ملزمین کو پولس تحویل میں دیئے جانے کی مخالفت کی تھی لیکن یو اے پی اے قانون کے تحت تحقیقاتی دستہ کسی بھی ملزم کی ۳۰؍ دنوں تک پولس تحویل حاصل کرسکتا ہے ۔ملزم شاہد خان کی پیروی کے لیئے عدالت میں ایڈوکیٹ سہیل، ایڈوکیٹ ذکی اقبال، ایڈوکیٹ اکبر خان و دیگر موجود تھے۔واضح رہے کہ مہاراشٹر اے ٹی ایس نے ملزم شاہد خان کو تعزیرات ہند کی دفعہ 120(B) اور 13,16,18,18(B), 20,38,39 یو اے پی اے قانون کی دفعات کے تحت مقدمہ قائم کیا ہے اور پر یہ الزام عائد کیا ہیکہ وہ آئی ایس آئی ایس کارکن ہے اور ہندوستان میں غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہے ۔گلزار اعظمی نے کہا کہ ملزم کے اہل خانہ کا دعویٰ ہیکہ شاہدخان ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان ہے اور اس پر جو الزامات اے ٹی ایس نے عائد کیئے ہیں وہ بے بنیاد ہیں لہذا ان کی تحریری درخواست پر جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کی جانب سے ملزم کو قانونی امداد فراہم کررہی ہے اواس تعلق سے ایڈوکیٹ خضر پٹیل و دیگر وکلاء کی خدمات حاصل کی گئی ہے ۔